7 اگست، 2004، 3:48 PM

ولادت كوثر اور آغاز ہفتہ خواتين

حضرت فاطمہ زہرا (ع) كي ولادت مكہ ميں بروز جمعہ 20 جمادي الثاني بعثت كے پانچويں سال ہوئي

حضرت فاطمہ زہرا (ع) كي ولادت كے وقت رسول خدا (ص) نے جناب خديجہ سے فرمايا : جبرائيل نے مجھے بشارت دي ہے كہ ہمارا يہ پيدا ہونے والا فرزند لڑكي ہے ، اور تمام آئمہ معصومين(ع) اسي كي نسل سے ہوں گے

 

 

 

ولادت:

حضرت فاطمہ زہرا (ع) كي ولادت كے وقت رسول خدا (ص) نے جناب خديجہ سے فرمايا : جبرائيل نے مجھے بشارت دي ہے كہ ہمارا يہ پيدا ہونے والا بچہ لڑكي ہے ، اور تمام آئمہ معصومين اسي كي نسل سے ہوں گے

مكہ ميں جب قريش خانہ كعبہ كي تعمير ميں مصروف تھے تو بروز جمعہ 20 جمادي الثاني  بعثت كے پانچويں سال شہزادي كونين فاطمہ زہرا (ع) تشريف لائيں

پرورش :

جناب فاطمہ (ص) نے نبوت و رسالت كے گھرانے ميں پرورش پائي اور رسول اسلام (ص) كے علم و دانش سے بہرور ہوئيں  رسول اكرم (ص) سے زباني قرآن سنا اور اسے حفظ كيا اور خود سازي و حقيقي انسان بننے كي فكر ميں مشغول ہوگئيں

اپنے والد محترم اور قرآن سے بے حد محبت فرماتيں ، اپنے والد ماجد كے فيض بخش وجود سے استفادہ فرماتيں تھيں يہي وہ كمالات تھے جن كي بنا پر پيغمبر اسلام (ص) آپ كو بے حد چاہتے تھے

ايك روز آپ كي زوجہ "عائشہ " نے آپ سے سوال كيا ، كيا آپ (ص) فاطمہ زہرا (ع) كو اتنا چاہتے ہيں كہ جب وہ آتي ہيں تو آپ تعظيم كے لئے كھڑے ہوجاتے ہيں اور ان كے ہاتھوں كو بوسہ ديتے ہوئے اپنے برابر ميں جگہ ديتے ہيں ؟

آپ نے جواب ميں ارشاد فرمايا : اے "عائشہ "اگر تمہيں يہ معلوم ہوجائے كہ ميں فاطمہ (ع) كو كيوں دوست ركھتا ہوں تو تم بھي انھيں محبوب ركھو ? آپ فاطمہ (ع) كو اپنا ٹكڑا سمجھتے تھے اور برابر ارشاد فرمايا كرتے تھے كہ " فاطمہ ميرا ٹكڑا ہے جس نے اسے اذيت دي اس نے مجھے ستايا اور جس نے اسے راضي كيا اس نے مجھے خوش كيا "

ايك روز پيغمبر اسلام ارشاد فرماتے ہيں "فاطمہ خدا تيري خوشنودي پر خوش ہوتا ہے اور تيري ناراضگي پر غضبناك ہوتا ہے "

شباھت:

فاطمہ زہرا (ص) صورت ، سيرت ، رفتار ، اور گفتار ميں سب سے زيادہ اپنے پدر محترم سے مشابہ تھيں ، پيغمبر اسلام (ص) كي زوجہ ام سلمي فرماتي ہيں  فاطمہ زہرا (ع) سب سے زيادہ رسول (ص)  سے مشابہ تھيں

باپ بيٹي كا رشتہ :

باپ بيٹي كے درميان يك طرفہ محبت نہيں تھي بلكہ حضرت فاطمہ زہرا (ص) رسول (ص) كي طرح اپنے والد ماجد سے محبت كرتي تھيں جناب خديجہ كي وفات كے وقت آپ كي عمر چھ سال سے زيادہ نہ تھي ماں كے بعد گھر ميں اپنے والد كے آرام و آسائش كو ہميشہ مد نظر ركھتي تھيں

فاطمہ وہ بيٹي تھيں كہ جو ہميشہ اپنے باپ كے نقش قدم پر ثابت قدم رہيں  شہر مكہ كي گلي كوچہ اور مسجد الحرام سب رسول (ص) كي توہين كرنے اور اذيت پہونچانے والوں سے بھرے ہوئے تھے  جب بھي آپ كے پدر محترم زخمي ہوكر واپس آتے تو آپ ہي چہرہ اقدس سے خون صاف كركے زخموں پر مرہم ركھتيں اور اپني پياري پياري باتوں سے رسول كا حوصلہ بڑھاتي تھيں

جب باپ اپنے وطن ميں رہ كر مسافر ، اور اپنے ميں بيگانہ ، اپنوں كے ہوتے ہوئے تنہا ، اپني زبان بولنے والوں ميں بے زبان ، ہر وقت جہل وبت پرستي سے  بر سر پيكار ، تبليغ كا سنگين بار اٹھانے ميں يك و تنہا تھا تو فاطمہ (ص) ہي تو تھيں جو اپني بے لوث محبت سے باپ كے دل كوشاد كرتي تھيں ، اور والد كي رسالت كو تسليم كركے ان كي اميدوں كو تقويت بخشتي تھيں يہي تو وجہ كہ پيغمبر فر ما تے تھے " تمہارا باپ تم پر قربان ہو  " يا يہ كہ " اپنے باپ كي ماں " كے لقب سے پكارتے تھے چونكہ آپ اپنے باپ كے لئے مثل ماں كے تھيں

News ID 101406

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha